Transcript for:
ذہن کی قابو کی تکنیک

میرے دماغ میں ہر وقت خیالات چلتے رہتے ہیں دماغ کبھی سکون میں نہیں رہتا میں جب سوں تو سوتے وقت بھی میرا دماغ چلتا رہتا ہے اور ایک پریشانی جو دماغ میں اٹک گئی ہے وہ خیال آتے رہتے ہیں ہر وقت مختلف اندیشیں مجھے ستاتے رہتے ہیں ایسی باتیں جو ہوئی نہیں ہیں وہ ذہن میں آتی رہتی ہیں کیا ہو گئی ہیں تو وہ پھر مجھے ان کا صدمہ جو ہے وہ بار خیالات کی شکل میں دماغ میں چلتا رہتا ہے یہ بہت کومن کمپلیٹ ہے بہت کومن پرابلم ہے اس موضوع پر جب بھی کوئی بات کی جاتی ہے تو اگر فرض کریں ایک ورکشاپ ہے یا ایک لیکچر ہے تو میں نے دیکھا ہے کہ اس مجمع میں اکثریت کو یہ پرابلم ہے کہ یہ میرے خیالات چلتے رہتے ہیں تو اس لیے یہ ویڈیو بہت ہیلپ کرے گی مجھے امید ہے مجھے بھی بہت ان باتوں نے ہیلپ کیا تو آپ اس کو سنیے گا غور سے توجہ سے ہو سکتا ہے اس سے آپ کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے دیکھیں بات سنیں ہماری جسم کے ہر عضو کا ایک کام ہے اب کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ دیکھیں میری آنکھیں تو دیکھتی رہتی ہیں میری آنکھیں تو دیکھیں میں ادھر دیکھ رہا ہوتا ہوں تو میری آنکھوں کو دروازہ نظر آرہا ہوتا ہے میری آنکھوں کو کیمرہ نظر آ رہا ہوتا ہے اس طرح کوئی یہ نہیں شکایت کرتا کہ دیکھیں میرا کان سن کیوں رہا ہے یہ تو دیکھیں اس کو آواز آ رہی ہے باہر کے یہ دیکھیں شور کی آواز آ رہی ہے وارش کی آواز آ رہی ہے کوئی یہ نہیں کہتا دل کیوں چل رہا ہے کوئی یہ نہیں کہتا کہ گردے جو ہیں وہ پشاپ کیوں بنا رہے ہیں جگر جو ہے وہ کیوں کیمیائی کام کر رہے ہیں تو لیکن دماغ جو ہمارا برین ہے اس کے بارے میں ہمیں شکایت ہے کہ یہ کیوں سوچ رہا ہے تو دماغ کا تو کام ہی سوچنا ہے سوچ اور تھاٹ تو ہی انسان کی زندگی کے پورے کے پورے نظام کو چلانے والی ہے پھر آخر ہماری شکایت دماغ سے کیوں ہے جو ہمیں شکایت ہے وہ یہ نہیں ہے کہ دماغ کیوں سوچتا ہے صرف ایک بات یاد رکھئے ہماری شکایت یہ ہے کہ ہمارا دماغ کا سوچنا ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے ورنہ تو دماغ ہمارے جسم کا سب سے بڑا موثر کنٹرولنگ ہماری اللہ کی جو نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے ویسے تو ایک ناخن بھی اللہ کی نعمت ہے بال بھی اللہ کی نعمت ہے مگر ہمارے جسم کے عذاب میں جو دماغ ہے یہ جو سپر سپر ایکسٹرا سپر سپر سونک کمپیوٹر ہے اور یہ جو سارے اتنے اٹھنی اٹیس بلین نیوران ہمارے دماغ کے اندر موجود ہیں یہ تو اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے تو صرف مسئلہ یہ ہے کہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے اور کچھ مشکیں نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے جو سوچنے کا عمل ہے یہ سوچنے کا عمل ہمارے اختیار سے باہر ہو جائے اور جب یہ ہمارے اختیار سے باہر ہوتا ہے تو تب ہمیں تکلیف ہوتی ہے مثلا آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگوں کو راشے کی بیماری ہوتی ہے ان کے ہاتھ ایسے ایسے ہل رہے ہوتے ہیں تو اب یہ ہاتھ کا کام ہی ہلنا ہے موو کرنا ہے پکڑنا ہے لیکن جب یہ ہمارے کنٹرول کے باہر ہو جاتے ہیں تو پھر ہمیں تکلیف ہوتی ہے تو اسی طرح پہلی بات تو یہ سمجھئے کہ ہمیں دماغ کے سوچنے سے کوئی شکایت نہیں ہے ہمیں شکایت اس بات سے ہے کہ دماغ کا سوچنا ہمارے کنٹرول کے باہر کیوں ہے اچھا اب ایک بات ہو گئی دوسرا آپ یہ دیکھئے کہ ہمارے دماغ میں یہ جو سوچنے کا عمل ہے یہ اصل میں ایک الیکٹریکل عمل ہے جو ہمارے نیوران ہیں ان میں بجلی کا کرنٹ دوڑتا ہے اور وہ جو کرنٹ دوڑتا ہے اس کے ساتھ پھر ایک نیوران دوسرے نیوران کو کرنٹ دیتا ہے دوسرا تیسرے کو دیتا ہے اور جو متعلقہ نیوران جب آپس میں ایک خاص قسم کے کرنٹ کے ساتھ موو کرتے ہیں تو ایک خاص قسم کا خیال اور جب ہمارے دماغ میں خود و خود سرکٹ بننا شروع ہو جاتے ہیں تو ان سرکٹ کی وجہ سے ہمارے دماغ میں خیالات آنے شروع ہو جاتے ہیں اور ہمارے دماغ کی ڈیفرنٹ قسم کی ایکٹیوٹیز ہیں جو کی ایکٹیوٹیز ہوتی ہیں یہ دوسری بات میں نے بتایا میں کوشش کر رہا ہوں کہ میں بہت سمپل کر کے آپ کو سمجھاؤں تیسرا اب آپ ایک غور کیجئے ایک بات میں سمجھاؤں گا پھر ان کو ملا کے کچھ نہ کچھ مطلب اس کا نکالیں گے تیسری بات یہ ہے کہ فرض کریں آپ شکار کرنے جا رہے ہیں اور آپ کے ہاتھ میں بندوق ہے اور آپ ایک فرض کریں کسی جانور کا شکار کر رہے ہیں آپ کو جھاڑی میں سرکتا ہوا جانور نظر آ رہا ہے اور آپ اس کو دیکھ رہے ہیں تو آپ کیا کریں گے؟ مکمل فوکس اس کے اوپر کریں گے مکمل فوکس کریں گے آپ کے ذہن میں صرف وہی خیال آ رہا ہوگی اور وہی خیال آپ کو فوکس کریں گے اور جب یہ آپ کو خیال آ رہا ہوتا ہے تو ہمارے جسم کے اندر جتنے بھی کیمیکل ہیں وہ کیمیکل سارے کے سارے فائٹ اور فلائٹ والے ہوتے ہیں یعنی کارٹیسول پروڈیوس ہو رہا ہوتا ہے ایڈنالین پروڈیوس ہو رہی ہوتی ہے نور ایڈنالین پروڈیوس ہو رہی ہوتی ہے یہ والے جو ساری چیزیں ہیں نا یہ اس کو انگریزی میں کہتے ہیں فائٹ اور فلائٹ کہ آپ نے یا بھاگنا ہے یا لڑائی کرنی ہے کوئی تو یہ اس قسم کے کام اور اس میں ہمارا دماغ جو ہے وہ جلدی جلدی نا فائر کر رہا ہوتا ہے سپارک کر رہا ہے کیونکہ ہم ایک ہی چیز کے اندر فسے ہوئے ہوئے ہیں ایک ہی خیال کے اندر فسے ہوئے ہیں اب یہ والی کیفیت جب ایک انسان کی عادت اور فطرت بن جائے کہ وہ ایک ہی خیال میں فسا ہوا ہے کہ میں نے تو کرزہ دینا ہے میں نے تو کرزہ دینا ہے میرا کرزہ کیس میرے ساتھ تو بہت زیادتی ہو گئی میری تو شادی بہت غلط ہو گئی ہے میری تو بیوی میرے ساتھ عمل میری ساتھ صحیح یعنی رویہ نہیں رکھتی یا میرا خامد نہیں رکھتا یا یہی خیال آ گیا ہے میری اولاد صحیح نہیں ہے میری اولاد صحیح یا یہ خیال آ گیا کہ مجھے تو جاب پراپر نہیں ملی میرا باس بالکل ٹھیک نہیں ہے تو وہی خیال آ گیا ہے تو آپ پورے جسمانی طور پر اور آپ کے جتنے ہارمون اور کیمیکل ہیں وہ سارے کے س بے ہنگم قسم کے وہ یعنی ڈسچارجز کرنا شروع کر دے گا آپ کے دماغ کے اندر اور یہی وہ قیفیت ہے جس کی شکایت کا میں نے سب کو ذکر کی اچھا اب ان کو اپنے قابو میں لانے کے لیے جو سب سے اہم چیز ہے وہ یہ ہے غور سے سنیے گا وہ یہ ہے کہ ہم کسی طریقے سے ان خیالات کے بارے میں اوئیر ہو جائیں ہم ان خیالات کو دیکھ سکیں بلکل اس طریقے سے جیسے میں یہاں بیٹھا ہوا اس پرسی کو دیکھ رہا ہوں یعنی ایز این آؤٹ سائیڈر آپ ان خیالات کو دیکھنا شروع کریں لہٰذا جب بھی اس طرف کے خیالات آئیں اگر ہم مشک کر کے ان خیالات کو دیکھنا شروع کر دیں اور یہ کہیں کہ اب میرے ذہن میں یہ خیال آ رہا ہے کہ میں اپنا کرزہ کیسے اتاروں گا اور یہ میرے ذہن میں خیال آ رہا ہے اس خیال کی وجہ سے مجھے پریشانی ہو رہی ہے جو ہی آپ یہ کرنا شروع کریں گے تو پہلا کام یہ ہوگا کہ آپ کو یہ لگے گا کہ خیال اور ہے اور میں اور ہوں خیال مجھ سے مختلف ہے میں اس سے مختلف ہوں خیال سے اور جو ہی آپ ایسا کریں گے تو آپ اپنے آپ کو خیال کے ساتھ آپ شناخت قائم نہیں کریں گے خیال کے ساتھ اپنے آپ کو ایڈنٹی فائی نہیں کریں گے اور وہ خیال آئیں گے مگر آپ کو اثر انداز نہیں پتہ نہیں میں یہ سمجھا سکا ہوں کہ نہیں سمجھا سکا تھوڑی سی مشک کے ساتھ غور سے ان خیالات کو ایسے دیکھیں جیسے آپ کی آنکھوں کے سامنے کچھ لوگ گزر کے جا رہے ہیں ایک لمبا آدمی ایک پتلا آدمی ایک موٹا آدمی ایک نیلے کپڑوں والا ایک سفید شروعار کمیز والا تو آپ ان کو ایسے observe کریں تھوڑی سی مشک کے ساتھ آپ کو یہ چیز سمجھ میں آ جائے گی ایک بات ایک اور اس سے بھی آسان مشک یہ ہے کہ اگر ہم تین جس وقت آپ کو یہ خیالات بہت تن کر رہے ہوں ہم تین چیزوں پر توجہ دیں اور وہ تین چیزیں یہ ہیں کہ ہمارے ہمیں کیا سنائی دے رہا ہے ہمیں کیا دکھائی دے رہا ہے اور ہمارے جسم میں کیا سینسیشن کیا حصیات آ رہی ہیں جیسے میں یہاں بیٹھا ہوں تو مجھے یہ سامنے علماری دکھائی دے رہی ہے یہ کتابیں دکھائی دے رہی ہیں یہ اسامہ بیٹھا ہوا ہے میرے سامنے یہ اینک ہے یہ تین چیزوں کے بارے میں میں نے دیکھا جو ہی میں نے ان چیزوں کے بارے میں دیکھنا شروع کیا تو میرے دماغ نے سوچنا بند کر دیا پھر مجھے کیا سینسیشن ہو رہی ہے مجھے تھوڑا سا یہاں گردن میں ہلکا سا درد ہو رہا ہے اور میرا یہ ہاتھ جو ہے یہ سوفے کے ساتھ ٹچ کر رہا ہے اور یہاں سے تھوڑی سی ہوا اس ایسی کی طرف سے آ رہی ہے ہوا آ رہی ہے اور وہ مجھے لمس مجھے محسوس ہو رہا ہے یہ سینسیشنز ہیں اور مجھے آوازیں کیا آ رہی ہیں یہ ابھی کسی نے دروازہ کھولا یہ آواز آئی یہ باہر کچھ لوگ بول رہے ہیں یہ ساتھ کچھ کنسٹرکشن کا کام ہو رہا ہے شاید اس کی آواز آئے تو میں نے جو ہی اپنے آپ کو مناظر کی طرف آوازوں کی طرف اور حصیات کی طرف توجہ دیا تو اس کا کیا نتیجہ ہوا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں لمحہ موجود میں آ گیا میری جو سوچ ہے وہ پریزنٹ ٹائم کے اندر آ گئی اور جو بھی ہمارے خیالات تھے وہ یا پاسٹ کے بارے میں تھے یا فیوچر کے بارے میں اور جو ہی ہم لمحہ موجود میں یہ جو سنسیشن ہے یہ ماضی میں یا فیوچر میں نہیں ہے یہ جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے یہ ماضی میں اور فیچر میں نہیں ہے اور جو کچھ آوازیں آ رہی ہیں یہ ماضی اور فیوچر میں نہیں ہیں یہ لمحہِ موجود میں ہیں تو لمحہ موجود میں ان تینوں چیزوں کی conscious awareness بالکل شعوری طور پر ان کی پرق کرنے سے ایک دم آپ اس میں آ جائیں اس کو یہ آپ میڈیٹیشن کہہ لیں اسی کو آپ سمجھیں کہ یہ میڈیٹیشن ہے اور جو ہی یہ ہوتا ہے تو ہمارا دماغ اسی وقت ان حصیات کو ان آوازوں کو اور ان کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جس کو مائنڈ فولنس بھی کہتے ہیں اور ایک دم اس کے جو دماغ کا پیٹرن ہے جو اس کا پیٹرن ہے جو ویو پیٹرن ہے انرجیز کا پیٹرن ہے وہ چینج ہو جاتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ بڑا اچھا ہندی کا لفظ ہے شانت ہو جاتا ہے کام ہو جاتا ہے کوائٹ ہو جاتا ہے رک جاتا ہے تو یہ دو چیزیں دو مشکیں ہیں وہ آپ کر سکتے ہیں ایک تیسری مشک میں نے ایک اور کسی کتاب میں پڑی جو مجھے بہت ہی اچھی لگی کہ اگر فرض کریں بہت زیادہ آپ کو انزائٹی کا اور پینک کا ہو رہا ہے اور خیالات بہت زیادہ آ رہے ہیں تو آپ جسٹ اپنے دل کو دیکھیں دیکھنے کی کوشش کریں پھر آنکھیں بند کریں اور اس دل کو دیکھتے رہیں ظاہر آپ کو نظر تصور میں ہی آ رہا ہوگا نا صرف باڈی کے اس آرگن کی طرف دیکھتے رہیں چونکہ آپ پوری توجہ سے یہاں دیکھ رہے ہیں تو آپ کا دماغ بے اکوک دو کام نہیں کر سکتا اس میں سے خیالات نکل جائیں گے اور تھوڑی دیر میں ہی آپ احسوس کریں گے کہ آپ کی دل کی دھڑکنجہیں وہ نورمل ہو گئے آپ کو اپنی پورے جسم کے اندر ایک سکون محسوس ہوگا اور ایک کاملس محسوس ہوگا لہٰذا مختصر بات اس ویڈیو کا خلاصہ یہ ہے کہ جو ہی آپ اس کیفیت میں جائیں تو وہ خیالات جو آپ کے کابو سے باہر ہیں ان کو کابو کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی طریقے سے اپنے دماغ کو لمحہ موجود میں لے آئیں اور جو ہی آپ لمحہ موجود میں آئیں گے دماغ ایک اور کام میں لگ جائے گا اور خیالات اس میں نہیں آئیں گے یا وہی خیالات آئیں گے جو آپ خود لانا چاہیں گے